14 ستمبر 2013 - 19:30
کیمیاوی ہتھیار اور صدر اسد پر امریکی الزام؛ ایک فنی جائزہ

"میں درحقیقت اس رپورٹ سے متاثر ہوا، جب یہ شائع ہوئی"، "اس کے باوجود کہ اس رپورٹ اور عراق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے رسوائے زمانے منظرنامے کے درمیان شباہت کے باوجود، میرا تاثر اس رپورٹ کے سلسلے میں ـ اس وقت کی نسبت بالکل مختلف ہے ـ جب میں اس پر معترض تھا"۔ "امریکی انٹیلجنس سوسائٹی میں 2003 کی نسبت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اوباما بھی ہرگز مشرق وسطی میں فوجی مداخلت کے لئے تیار نظر نہيں ہیں، اور یہ مسئلہ اس رپورٹ کی صحت و اعتبار میں اضافہ کرتا ہے"۔ (1)

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یہ ہتھیار کنٹرول ایسوسی ایشن کے مشہور ٹل مین، کے جذبات تھے جن کا اظہار انھوں نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی 4 صفحات پر مشتمل رپورٹ پر کیا تھا۔ یہ جذبات اس لحاظ سے بہت ہیں کہ اس کا مقصد امریکی رائے عامہ کو اوباما کی تجویز سے اتفاق کے لئے تیار کرنا تھا جبکہ گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق 51 فیصد امریکی اس حملے کے خلاف تھے اور صرف 36 فیصد نے اس کی حمایت کی تھی۔ (2) البتہ گیلپ کو یاد ہوگا کہ اس سے ‌بھی زيادہ غیرپیشہ ورانہ منظرنامے نے عراق کے سلسلے میں 59 فیصد لوگوں کے ووٹ حاصل کئے تھے اور اور اس سے پہلے 11 ستمبر کے بدولت افغانستان پر حملے کے لئے 82 فیصد امریکیوں نے حملے کے موافق رائے دی تھی۔ (3) چنانچہ اندرونی رائے عامہ کے حوالے سے نامناسب حالات کو مناسب بنانے کے لئے کانگریس اور اقوام متحدہ جیسے اوزاروں کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ امریکی رائے عامہ جنگ پسندوں کا ساتھ دیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ چار صفحاتی رپورٹ کیا ہے؟ یہ دستاویز سی آئی اے کی رپورٹ کا اعلانیہ اور غیر مرتب شدہ (Unclassified) متن کا خلاصہ ہے جس پر "اعتماد کی سطح "اعلی" (level of confidence, High)" کی مہر لگی ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ امریکی انٹیلجنس اس رپورٹ کی قطعی طور پر تائید کرتی ہے اور یہ کہ صدر اسد ہی 21 اگست کے کیمیاوی حملے کے ذمہ دار ہیں۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے: "ہم اعلی درجے کے اعتماد کے ساتھ اندازہ لگاتے ہیں کہ شام کی حکومت نے چھوٹی سطح پر ـ دمشق کے نواح سمیت ـ کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں"۔ "حکومت شام نے دمشق کے نواحی علاقوں کو ـ جو مخالفین کے زیر استعمال ہیں ـ صاف کرنے کے لئے وسیع کوششوں کا آغاز کیا ہے اور کئی ٹھکانوں کو خالی کرانے میں اسے کامیابی بھی ملی ہے ان ہی علاقوں میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جو 21 اگست کو حملے کا نشانہ بنا"۔ "ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شام کی کیمیاوی یونٹوں کے اہلکار حملے سے چند روز قبل کیمیاوی ہتھیار تیار کررہے تھے۔۔۔ وہ 18 اگست سے 21 اگست تک دمشق کے نواح میں "آدرا" کے علاقے میں جو حملے کے موقع کے قریب ہے، مصروف عمل تھے"۔ "شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کی صبح کو دمشق پر توپخانے اور مارٹرز کے حملے کئے ہیں۔ سیٹلائٹ کے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملے حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے ہوئے ہیں اور بطنا، جوہر۔ عین ترما، درایا اور محمدیہ کے علاقے پر بھی کیمیاوی حملے ہوئے ہیں اور ان میں وہ حملہ بھی شامل ہے جو حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے ہونے والے حملوں کی خبر کی اشاعت سے 90 منٹ پہلے انجام پایا تھا۔ مذکورہ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں کوئی پرواز نہيں ہوئی اور حکومت نے میزائل اور مارٹر حملے کئے"۔ "چار گھنٹوں کے دوران صبح اڑھائی بجے کی پہلی رپورٹ کے مطابق، نواح کے بارہ علاقوں سے ہزاروں اخباری رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے بعض میں کہا گیا ہے کہ کیمیاوی حملہ کیمیاوی مواد سے بھرے گئے مارٹر شیلوں کے ذریعے کیا گیا اور یہ شیل مخالفین کے زیر قبضہ علاقوں پر گرے"۔ "ہم نے چوری چھپکے (Eavesdropping کے ذریعے) اعلی حکام اور کیمیاوی یونٹ کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والا مکالمہ سنا ہے جس سے اس حملے کی تائید ہوتی ہے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی کے حوالے سے فکرمندی کا اظہار ہوتا ہے، ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کی شام کو کیمیاوی حملے بند کرنے کی ہدایت کی ہے اور اسی اثناء میں حکومت نے کیمیاوی ہتھیاروں کا نشانہ بننے والے علاقوں کو بھاری توپخانے کی گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران توپخانے اور مارٹرز کے یہ حملے سابقہ 10 دنوں کے دوران حملوں کی نسبت چار گنا زیادہ بھاری اور شدید تھے۔ یہ گولہ باری 26 اگست کی صبح تک جاری رہے ہیں۔"۔ "اس حوالے سے مزید معلومات بھی جو مذکورہ معلومات کی تائید و تصدیق کرتی ہیں جن کو اطلاعات، ان کے ذرائع اور روشیں خفیہ رکھنے کی غرض سے خفیہ رکھا جاتا ہے اور انہیں کانگریس اور بین الاقوامی حلیفوں کو پیش پیش کیا جائے گا"۔ (4) چور کی داڑھی میں تنکا سی آئی اے نے بہت زیادہ زحمت کی تھی لیکن قرائن اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ماہرین نے ٹل مین کی طرح، سی آئی کے کوڈز کو سنجیدہ نہیں لیا ہے۔ اور رابرٹ فسک جیسے ماہرین ـ جنہوں نے عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کے لئے مختلف علاقوں اور ٹھکانوں کو چھان مارا ہے اور اس قدر سی آئی کی طرف سے رپورٹس کی اشاعت اور حتی کہ عدم اشاعت سے دھوکا کھاتے رہے ہیں کہ ـ اب وہ سی آئی اے کی ان رپورٹوں کو کسی طور پر بھی قابل قبول نہيں سمجھتے"۔ (5) اس حوالے سے اہم سوال یہی ہے کہ امریکہ ـ جس کو 3 روز قبل معلوم ہوچکا تھا کہ شامی فوج کے اہلکار کیمیاوی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی تیای کررہے ہیں ـ تو اس نے اس دوران کوئی اقدام کیوں نہيں کیا یا دنیا کو آگاہ کیوں نہيں کیا اور ہلاکتوں کا سد باب کیوں نہیں کیا؟ اس جعلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے میں 1429 افراد مارے گئے ہیں جس کی وجہ سے رپورٹ کی حقیقت مشکوک ہوئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ رپورٹ لکھنے والے ناقابل اعتماد ہیں۔ کیونکہ اس رپورٹ کا موازنہ دوسری رپورٹوں کے ساتھ کرایا جائے تو اس میں مبالغہ آرائی واضح ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر حملے کی سازش میں امریکہ کا ساتھ دینے والے ملک فرانس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 100 کے قریب افراد مارے گئے ہیں اور امریکہ و یورپ اور عرب و اسرائیل کے زیر سرپرستی دہشت گردوں نے رپورٹ دی ہے کہ 179 افراد مارے گئے ہیں۔ برطانیہ سمیت اس سازش میں امریکہ کا راستہ صاف کرنے والی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بغیر سرحد کے ڈاکٹروں کی تنظیم نے بھی فرانسیسی رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔ (6) اگر ہم قبول کریں کہ یہ رپورٹیں درست ہیں اور 100 سے 179 تک افراد سرکار کے کیمیاوی حملے میں مارے گئے ہیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حکومت دنیا بھر کو اپنے خلاف لاکھڑا کرکے اتنے سے دہشت گردوں کو مارنے کے لئے ایٹمی حملے کرے؟ یا حتی اس تعداد کا چار یا پانچ گنا کرنے کے لئے امریکی حملوں کا خطرہ مول لے؟؟! نیز مغربی ذرائع (7) عراق کے مسئلے میں سرگرم رہنے والے اقوام متحدہ کے کیمیاوی ہتھیاروں کے ایک معائنہ کار کے حوالے سے لکھتے ہیں  کہ یہ رپورٹ بالکل ان ہی رپورٹوں کی طرح ہے جو 2003 میں عراق کے بارے میں شائع کی گئیں۔ اس معائنہ کار نے اپنا نام فاش نہ ہونے کی شرط پر کہا ہے: میں نے جمعہ کے روز اس رپورٹ کو دیکھا تو مجھ پر غم اور اداسی کی سی کیفیت طاری ہوئی؛ اس رپورٹ میں یہ نہيں کہا گیا ہے کہ شامی فوج کے استعمال کردہ کیمیاوی مواد کی نوعیت کیا ہے؟ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رپورٹ کے شواہد اور ثبوت بالکل قابل قبول نہیں ہیں اور ان کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہيں کیا جاسکتا۔ بدگمانیوں کا سلسلہ یہیں رکتا نہیں ہے۔ 20 اگست کو ترکی کے راستے ٹینک شکن ہتھیاروں، انفرادی ہتھیاروں اور گائیڈڈ میزائلوں پر مشتمل 400 ٹن فوجی ساز و سامان شام میں دہشت گرد ٹولوں تک پہنچایا گیا۔ (8) اتنا بڑا فوجی سازوسامان شام میں شر انگیزیوں کے آغاز سے آج تک دہشت گردوں تک نہيں پہنچا تھا؛ اس حقیقت کے ساتھ یہ معلومات بھی ملا دیں کہ امریکہ، قطر اور ترکی کے انٹیلجنس افسران نے متعدد بار شام کے اندر میدان جنگ میں دہشت گردوں کے سرغنوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے اوقات کا جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کو 21 اگست کے واقعے کی پیشگی اطلاع تھی (9) یا پھر یہ حملہ دہشت گردوں نے امریکہ کی مرضی سے ہی کیا تھا۔ ایک ابہام بغیر سرحد کے ڈاکٹروں (Doctors Without Borders/Médecins Sans Frontières [MSF]) نے امریکی دعوے میں بھر دیا۔ جان کیری نے ان ذرائع کا نام لیا تھا جنہوں نے بقول ان کے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حملہ شام کی حکومت نے کیا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹروں کی مذکورہ تنظیم نے اپنے ایک بیان کے ضمن میں واضح کیا کہ ایم ایس ایف" اس بات کا تعین کرنے کی اہلیت نہيں رکھتی کہ استعمال ہونے والی گیس "سیرین Sarin تھی تاہم نشانہ بننے والے افراد کے زخموں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان زخموں کا سبب نیوروٹیکسین (Neurotoxin) ہے۔ (10) اس کا مفہوم یہی ہے کہ کوئی بھی دستاویز موجود نہيں ہے جو فنی حوالے سے ثابت کرسکے کہ جو گیس استعمال ہوئی ہے وہ صرف حکومت شام کے پاس ہے اور دوسرے کسی شخص یا گروپ تک نہیں پہنچائی جاسکتی۔ اور پھر دہشت گردوں نے خود زور دے کر کہا تھا کہ استعمال ہونے والی گیس بہت زيادہ بدبو تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گیس دستی طور پر تیار کردہ سیرین ہے جس کی تیاری کے اوزار اور آلات ایک سال قبل ترکی نے دہشت گردوں کو فراہم کئے تھے اور جو سیرین گیس ـ کہا جاتا ہے کہ شام کی حکومت کے پاس ہے ـ اس سے کسی قسم کی بو نہیں آتی۔ (11) کچن سیرین کی تیاری کے لئے اوزار اور مواد کی زیر زمین سرنگوں میں موجودگی (12) اور اس مواد کی ترکی سے دہشت گردوں کو منتقلی کی رپورٹس [13] اور دوسرے شواہد نے مکمل طور پر واضح و آشکار کردیا کہ اس قسم کی گیس شام دشمن دہشت گردوں نے استعمال کیا ہے اور استعمال کرتے رہے ہیں۔ اور یہ جو امریکیوں نے کہا ہے کہ "ہم نے چوری چھپکے شامی حکام اور کیمیاوی حملہ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان ہونے والا مکالمہ سنا ہے اعلی حکام اور کیمیاوی یونٹ کے اہلکاروں کے درمیان خفیہ گفتگو سن لی ہے جس سے۔۔۔"؛ تو اس کے بارے میں ڈیلی کالر (Daily Caller) نامی ویب سائٹ نے امریکہ کی مبینہ دستاویزات تک رسائی رکھنے والے چند اعلی افسروں کے حوالے سے انکشاف کیا کہ درحقیقت Eavesdropping کا یہ کام اسرائیل کی 8200 الیکٹرانک یونٹ نے انجام دیا ہے اور ریکارڈ کے مختلف کلپوں کو تحریف آمیز انداز سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ ایڈیٹ شدہ یا تحریف شدہ رپورٹ سب سے پہلے صہیونی ٹی وی کے چینل دو نے نشر کی تھی اور دعوی کیا گیا تھا کہ کیمیاوی حملہ ماہر اسد کی ہدایت پر کیا گیا ہے حالانکہ Eavesdropping کی اصل رپورٹ کا متل اس دعوے سے تضاد رکھتی ہے۔ جو آوازیں ریکارڈ کی گئی ہیں وہ کچھ یوں ہیں: "کمانڈنگ اسٹاف کا افسر ایک افسر سے توپخانے کے ذیلی کمانڈے کے بارے میں پوچھتا ہے کہ وہ حملے میں موجودتھا؟ مکالمے کے لب و لہجے سے معلوم ہے کہ مرکزی کمانڈ کے افسران ماہر کے بریگیڈ کے کسی ممکنہ خودسرانہ حملے سے خائف ہیں لیکن کمانڈر فیصلہ کن انداز سے جواب دیتا ہے کہ اس بریگیڈ نے کوئی میزائل نہیں داغا ہے"۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کمانڈر سے تین دن تک تفتیش ہوئی ہے لیکن جب مرکزی کمانڈ کو یقین ہوجاتا ہے کہ بریگیڈ کے پاس موجود ہتھیار بےجا استعمال نہيں ہوئے اور اپنی جگہ موجود ہیں تو اس کو اپنی یونٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے۔ (14) یہ غلطی اس قدر بڑی تھی کہ چار صفحاتی رپورٹ کی اشاعت سے پہلے بعض ذمہ داری امریکیوں نے متعلقہ پیراگراف کو حذف کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بظاہر انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ (15) اور گذشتہ مارچ کے مہینے میں جب حلب میں دہشت گردوں نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے تو امریک